تحریک لبیک باکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی جیل سے رہا ہوگئے،لیکن ان کی خواہش پوری نہ ہوسکی

5:00 PM 14 may

اسلام آباد (خبر نامہ 92) تحریک لبیک پاکستان کے قائد مولانا خادم حسین رضوی کو آج لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت پر رہا کر دیا۔ ایک طرف جہاں مولانا خادم حسین رضوی کو ضمانت ملنے پر خوشی ہو گی وہیں ان کی ایک ایسی خواہش بھی ہے جو پوری نہیں ہو سکی۔ مولانا خادم حسین رضوی کی رہائی ایسے وقت میں ہوئی جب آسیہ بی بی ملک سے باہر جا چکی ہیں۔ خادم حسین رضوی کو آسیہ مسیح کی رہائی کے خلاف احتجاج کے بعد نظر بند کیا گیا تھا، انہوں نے اپنے کارکنان کو احتجاج کی کال دی تھی جس پرانہیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔ خادم حسین رضوی نے آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت ملک بھر میں احتجاج کیا تھا جس دوران املاک کا بھی نقصان ہوا ۔مظاہرین نے آسیہ بی بی کو دوبارہ گرفتار کرنے اور پاکستان سے باہر جانے کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن اب جب خادم حسین رضوی رہا ہو گئے ہیں تو آسیہ مسیح پاکستان میں نہیں ہیں ۔ وہ بیرون ملک جا چکی ہیں۔یاد رہے کہ رواں ماہ 8 مئی کو موصول ہونے والی اطلاعات میں آسیہ بی بی کے بیرون ملک جانے کی تصدیق کر دی گئی تھی۔ سفارتی ذرائع نے آسیہ بی بی کے باہر جانے کی تصدیق کی۔ اطلاعات کے مطابق آسیہ بی بی کینیڈا روانہ ہوئیں۔ذرائع دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ آسیہ بی بی اس وقت پاکستان میں موجود نہیں ہے۔ یاد رہے کہ 31 اکتوبر 2018ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت کے خلاف آسیہ مسیح کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کلمہ شہادت سے آغاز کیا اور لاہورہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئے آسیہ بی بی کو معصوم اور بے گناہ قرار دیا تھا ۔ سپریم کورٹ نےآسیہ بی بی کی فوری رہائی کا حکم دیا تھا، عدالت کے اس فیصلے کے بعدآسیہ بی بی کو 9 سال کی اسیری کے بعد ملتان جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔

Related Post