قومی اسمبلی میں وفاقی وزرا ایک دوسرے کی مخالفت میں آمنے سامنے آگئے،بڑی خبر

5:55 PM 30 April

اسلام آباد (خبر نامہ 92) قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان تحریکِ انصاف کے اقلیتی رہنما اور رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے قومی اسمبلی میں کم عمری کی شادی پر پابندی کے حوالے سے بل پیش کر دیا۔ حکومتی جماعت کے رکن کی جانب سے پیش کردہ بل کو اپنی ہی جماعت کے اراکین کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑاہے۔ وزیرداخلہ او ر وزیرمذہبی امور نے اس بل کی شدید مخالفت کی ہے اور اسے منظور نہ کرنے کے حوالے سے استداء کی گئی ہے۔ وزیرمذہبی امور نے بھی کم عمری مین شادی پر پابندی کے بل کو منظور کرنے سے انکار کر دیا تاہم وزیرانسانی حقوق شیریں مزاری نے بل کی ھمایت کی اور انہوں نے کہا کہ کئی اسلامی ممالک میں یہ قانون موجود ہے اسے پاکستان میں بھی ہونا چاہیے وزیر پارلیمانی امور رعلی محمد خان نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بل کی مخالفت کرتا ہوں چاہے وزارت چلی جائے۔ قومی اسمبلی میں واضح رائے نہ آنے پر بل پہ ووٹنگ کروا دی گئی جس کے نتیجے میں بل کے حق میں 72 اور مخالفت میں 50ووٹ ڈالے گئے۔ ووٹنگ میں کثرتِ رائے آنے پر بل منظورکر لیا گیا اور اسے مزید مشاورت کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا ہے۔ کم عمری میںشادی پر پابندی کے حوالے سے بل پہلے بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا جا چکا ہے لیکن اس سے پہلے دونوں بار بل پیش کیے جانے پر یہ بل منظور نہیں ہو سکا تھا۔تاہم اب اس بل کو قومی اسمبلی میں کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔

Related Post